عرض داشت
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - درخواست، عرضی۔ "میں نے ان کی خدمت میں ایک عرض داشت پیش کرنی ہے۔" ( ١٩٨٤ء، چولستان، ٢٧١ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'عرض' کے ساتھ فارسی مصدر 'داشتن' سے صیغہ امر 'داشت' ملنے سے مرکب 'عرض داشت' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - درخواست، عرضی۔ "میں نے ان کی خدمت میں ایک عرض داشت پیش کرنی ہے۔" ( ١٩٨٤ء، چولستان، ٢٧١ )
جنس: مؤنث